تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخ کے کچھ واقعات صرف ماضی نہیں ہوتے، وہ ہر دور کے انسان کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑے رہتے ہیں: جب مقدسات پامال ہوں تو ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں؟
مکہ مکرمہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے امن عطا فرمایا۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں رسولِ اکرم (ص) نے فتحِ مکہ کے موقع پر خانۂ کعبہ کو شرک کے مظاہر سے پاک کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ کعبہ کے گرد 360 بت موجود تھے، جنہیں رسول اللہ (ص) نے ہٹایا اور توڑ دیا۔
یہ صرف بتوں کو گرانا نہیں تھا؛ یہ اعلان تھا کہ توحید کے مرکز میں باطل کی پرستش کی کوئی جگہ نہیں۔
مگر تاریخ نے اسی مقدس سرزمین کو بعد میں ایک اور منظر بھی دکھایا۔
یزید کے دور میں پہلے مدینہ منورہ نے ظلم کا سامنا کیا۔ واقعۂ حرّہ میں یزیدی لشکر نے مدینہ پر حملہ کیا، خونریزی ہوئی اور مسجد نبویؐ کی حرمت بھی پامال ہوئی۔ تاریخی روایات میں مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے جانے اور اسے لشکر کے قیام کے لیے استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ اہلِ مدینہ اور ان کے خاندانوں پر ہونے والی زیادتیوں کی روایات اس دور کا ایک انتہائی دردناک باب ہیں۔
اور پھر یہی لشکر مکہ مکرمہ کی طرف بڑھا۔
عبداللہ بن زبیر نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ میں موجود رہے۔ یزیدی لشکر نے مکہ کا محاصرہ کیا اور منجنیقوں سے سنگ باری کی۔ اس دوران خانۂ کعبہ کو بھی نقصان پہنچا۔
سوچیے!
جس کعبہ کو رسولِ اکرم (ص) نے بتوں سے پاک کیا تھا، اسی کعبہ پر چند دہائیاں بعد مسلمانوں ہی کی سیاسی جنگ میں منجنیقیں چل رہی تھیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں ایک تلخ حقیقت دکھاتی ہے:
جب اقتدار دین اور حرمت سے بڑا بن جائے تو مقدس مقامات بھی محفوظ نہیں رہتے۔
یزید 64 ہجری میں دنیا سے چلا گیا۔ ظلم کے انجام کے طور پر اس کی موت کو تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے، لیکن کسی مخصوص عذاب کو اس کی موت کی قطعی وجہ قرار دینا تاریخی طور پر ثابت شدہ بات نہیں۔
مگر سوال صرف یزید کا نہیں۔
سوال ہمارا ہے۔
آج سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہر موجود ہیں۔ اس سرزمین کا ہر گوشہ اسلامی تاریخ کی عظیم یادوں سے وابستہ ہے۔ لیکن اسی ملک میں تیزی سے بدلتا ہوا معاشرتی اور تفریحی ماحول بھی سامنے آ رہا ہے۔
2022 میں ریاض میں Halloween طرز کی Scary Weekend تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں خوفناک costumes اور تفریحی سرگرمیاں شامل تھیں۔
یہاں کسی غیر مصدقہ دعوے کو حقیقت بنانا مقصد نہیں۔ نہ یہ کہنا درست ہے کہ مکہ میں مندر قائم ہو گئے، نہ یہ کہ کعبہ کے گرد بت واپس آ گئے۔ لیکن سوال ضرور ہے کہ مقدس سرزمین کی روحانی شناخت اور جدید تفریحی ثقافت کے درمیان توازن کہاں ہے؟
اور اس سے بھی بڑا سوال:
جس سرزمین کی سیاسی طاقت مسلمانوں کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے، کیا اس طاقت کو کبھی ایسے تنازعات میں استعمال ہونا چاہیے جہاں مسلمان ہی مسلمانوں کے مقابل کھڑے ہوں؟
کل مدینہ میں حرّہ ہوا۔
پھر مکہ کا محاصرہ ہوا۔
کعبہ پر منجنیقیں چلیں۔
اور آج ہم اسی تاریخ کو پڑھ کر صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں کہ "یہ تو یزید کا زمانہ تھا"؟
نہیں۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم صرف تلوار سے نہیں ہوتا؛ خاموشی بھی کبھی کبھی ظلم کو طاقت دیتی ہے۔
رسول اللہ (ص) نے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا۔
یزیدی لشکر نے اسی حرم کو جنگ کی زد میں پہنچا دیا۔
اور آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مقدسات، انسانی جانوں اور حق و انصاف کی حرمت کو محض تاریخ کا موضوع نہ بنائیں۔
کیونکہ سوال آج بھی وہی ہے:
وہ کل بھی خاموش تھے، جو آج بھی خاموش ہیں۔
اور تاریخ ہر نسل سے پوچھتی ہے:
تم کس طرف کھڑے تھے؟









آپ کا تبصرہ